عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے سوات میں حالیہ ڈوبنے والے 18 افراد کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ افراد بااثر ہوتے تو کیا ان کی جانیں ضائع ہوتیں؟
مفتاح اسماعیل نے سوات واقعے کو ایک لمحہ فکریہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریائے سوات میں ڈوب گئے، ایک سنگین سوال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ افراد کسی بااثر یا سیاسی شخصیت کے خاندان سے تعلق رکھتے، تو کیا ان کی جانوں کو بچانے کے لیے اتنی دیر ہوتی؟
انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی بالادستی اور حقیقی حکمرانی کا نفاذ ضروری ہے تاکہ اس نوعیت کے حادثات کو روکا جا سکے اور عوام کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ ملک میں جاری سیاسی بے یقینی اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے تھا کیا ہم اس پر عمل کریں یا کل کا فیصلہ مانیں؟ یہ سوال ملکی سیاست اور عدلیہ کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جس پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن کے ریلے میں پورا خیبرپختونخوا بہہ رہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
مفتاح اسماعیل نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تاکہ ایسی المناک صورتحال سے بچا جا سکے اور ریاستی ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔





