ڈیپ سیک کا مستقبل خطرے میں، جرمنی میں پابندی لگنے کا امکان

ڈیپ سیک کا مستقبل خطرے میں، جرمنی میں پابندی لگنے کا امکان

جرمنی میں چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل ڈیپ سیک پر پابندی کا امکان پیدا ہوگیا ہے کیونکہ حکام کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت پر سنجیدہ تحفظات لاحق ہیں۔

جرمنی کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر مائیکے کمپ نے ایپل اور گوگل سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈیپ سیک ایپ کو اپنے جرمن ایپ سٹورز سے ہٹا دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی ماڈل صارفین کا حساس ڈیٹا چین منتقل کر رہا ہے جس سے پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق کمشنر کمپ نے بتایا کہ چینی کمپنی جرمن صارفین کا ڈیٹا کس طرح محفوظ رکھتی ہے، اس بارے میں ان کی ایجنسی کو اطمینان بخش معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ چین میں ریاستی اداروں کو ملکی کمپنیوں کے زیرِ استعمال ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے جو یورپی معیار کے برعکس ہے۔

مائیکے کمپ کے مطابق مئی میں ڈیپ سیک سے کہا گیا تھا کہ یا تو وہ یورپی یونین کے ڈیٹا ٹرانسفر قوانین پر عمل کرے یا ایپ کو جرمنی میں ازخود بند کر دے تاہم کمپنی نے کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا۔

اس کے بعد کمشنر نے ایپل اور گوگل کو باضابطہ درخواست دی کہ وہ اس ایپ کو اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔

ڈیپ سیک کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق وہ صارفین کی جانب سے اپلوڈ کی گئی فائلز اور ڈیٹا کو چین میں موجود سرورز پر محفوظ کرتا ہے تاہم اس معاملے پر نہ تو کمپنی کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے آئی ہے اور نہ ہی ایپل یا گوگل کی جانب سے فوری ردعمل دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا اے آئی فیچر متعارف کرا دیا

جنوری 2025 میں ڈیپ سیک نے کم لاگت میں چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ماڈل کا دعویٰ کر کے دنیا کو حیران کر دیا مگر امریکا اور یورپ میں اس کی ڈیٹا سیکیورٹی پر خدشات برقرار رہے۔

Scroll to Top