انگورآڈہ بارڈر کی طویل بندش کے خلاف وانا میں شٹر ڈاؤن اور دھرنے کا اعلان

انگورآڈہ بارڈر کی طویل بندش کے خلاف وانا میں شٹر ڈاؤن اور دھرنے کا اعلان

جنوبی وزیرستان لوئر میں پاک افغان سرحد پر واقع انگورآڈہ گیٹ کی طویل بندش کے خلاف تجارتی برادری نے 30 جون سے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تمام ٹریڈ یونینز، بارگین یونین، فروٹ، ٹرانسپورٹ اور ٹریول ایجنسیز سمیت تمام کاروباری تنظیموں نے 23 ماہ سے بارڈر کی بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ انگورآڈہ بارڈر کی مسلسل بندش نے مقامی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

کاروباری برادری نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر انگورآڈہ گیٹ کو طورخم، خرلاچی اور چمن کی طرز پر فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے نہ کھولا گیا تو 30 جون سے وانا کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے جائیں گے، اور غیر معینہ مدت تک دھرنا دیا جائے گا۔

دھرنے کے دوران صرف سبزی، پھل اور مریضوں کی آمد و رفت کی اجازت ہوگی جبکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری نقل و حرکت معطل رہے گی۔

چیمبر آف کامرس کے صدر سیف الرحمن وزیر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار یقین دہانیوں کے باوجود انگورآڈہ گیٹ تجارتی مقاصد کے لیے نہیں کھولا گیا جس کی وجہ سے تاجروں کو احتجاج کا راستہ اپنانا پڑ رہا ہے۔

چیمبر آف کامرس کے صدر سیف الرحمن وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے تاکہ سرحدی تجارت بحال ہو اور علاقائی عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔

Scroll to Top