پشاور/سوات : سینئر صحافی طارق وحید نے سانحہ سوات کے حوالے سے اپنی گفتگو میں حکومتِ خیبرپختونخوا کی مبینہ غفلت اور غیر سنجیدگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، جو سیاحت کے وزیر بھی ہیں، اسلام آباد میں اپنے سیاسی قائد کی رہائی کی مہم میں مصروف تھے، جبکہ سوات میں لوگ ڈیڑھ گھنٹے تک مدد کے منتظر رہے۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے طارق وحید نے انکشاف کیا کہ نہ اسسٹنٹ کمشنر جائے حادثہ پر پہنچا، نہ ریسکیو سروس فعال ہوئی۔ یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنر کو صرف اسٹیبلشمنٹ کو رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن ملا۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے غفلت کا اعتراف تو کیا، لیکن آج تک کسی ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی۔
طارق وحید کا کہنا تھا کہ حادثے سے دو روز قبل صوبائی اسمبلی میں معاونِ خصوصی برائے ریلیف و آبادکاری نے محض فنڈز کے اعلانات پر بات کی، الرٹ سسٹم اور پیشگی اطلاع کے نظام کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ریسکیو کی غفلت جانیں لے گئی، حکمران جواب دہ ہیں، خواجہ آصف
انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی موجودگی صرف نوٹیفکیشنز اور دعووں تک محدود رہی۔
فروری میں محض پنجاب سے مقابلہ کرنے کے لیے اس منصوبے کا اعلان کیا گیا، لیکن آج تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، نہ ہی کوئی سسٹم فعال ہو سکا۔





