آفات کے بعد بحالی کے عمل میں ناکامی پر محمود جان بابر نے خیبرپختونخوا حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

پشاور: سینئر صحافی محمود جان بابر نے خیبرپختونخوا حکومت کو آفات سے نمٹنے، بحالی کے فنڈز کے استعمال اور حکومتی نااہلی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف مرحومین کے لواحقین میں رقم تقسیم کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے، بلکہ بچاؤ اور پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 11 ارب اور رواں سال 12 ارب روپے سے زائد کی رقم آفات کی بحالی و آبادکاری کے لیے دی گئی، لیکن ان فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور مؤثر حکمت عملی کا فقدان ہے۔

محمود جان بابر نے سوات سانحے کے تناظر میں کہا کہ وفاقی حکومت تماشائی بنی رہی جبکہ لوگ جانیں گنوا رہے تھے۔ انہوں نے ووٹنگ رجحان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام صرف پسند کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، چاہے منتخب نمائندہ کچھ کرے یا نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خود جائزہ لے تو معلوم ہوگا کہ کئی اہلکاروں کے پاس سرکاری اور پروجیکٹ گاڑیاں موجود ہیں، اور دفتر آنے جانے کے لیے پٹرول پر ہزاروں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ان کا تجویز تھا کہ صرف دفتر آنے جانے کے لیے محدود پٹرول دیا جائے۔

تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور صرف عمران خان کے کہنے پر عہدے پر موجود ہیں، اور جب تک جیل میں موجود پارٹی قیادت چاہے گی، تب تک وہ حکومت میں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : قدرتی آفات کے لیے ہنگامی ہیلی کاپٹر سروس صرف خواب ہے، طارق وحید

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم آفات بحالی کے لیے مقرر مشیر کو ہٹا دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے بنائے تو جاتے ہیں مگر سیاست اور نااہلی کے باعث مؤثر کام نہیں کر پاتے۔
ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات ریسکیو میں ایسے افراد بھرتی کیے گئے ہیں جنہیں نہانا بھی نہیں آتا، اور انہیں عوام کو ڈوبنے سے بچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

Scroll to Top