عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے نوشہرہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ صرف عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اب صوبے کے آئینی حقوق پر بھی حملے کر رہی ہے۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ حالیہ پیش کردہ مائنز اینڈ منرل بل دراصل 18ویں آئینی ترمیم پر ایک براہ راست حملہ ہے، جس کے ذریعے وفاقی اختیارات کو دوبارہ صوبوں سے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بل دراصل پختون قوم کو ان کے قدرتی وسائل سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت ہر ایسے اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی جو پختونوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہو۔ ان کا کہنا تھا،’’پختونوں کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے صوبائی خودمختاری، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کی علمبردار رہی ہے، اور اب بھی وہ ان اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔





