دریائے سوات میں سیاحوں کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر پشاور ہائی کورٹ نے کمشنر مالاکنڈ سمیت متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس فہیم ولی نے واقعے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ سیاحوں کو بروقت ریسکیو کیوں نہیں کیا گیا؟ اور حفاظتی جیکٹس ڈرون کے ذریعے کیوں فراہم نہیں کی گئیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دریا اور سیاحتی مقامات کی نگرانی اور دیکھ بھال کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا حکومت کی جانب سے جاری کردہ وارننگ پر کوئی عملدرآمد کیا گیا؟ عدالت نے آئندہ سماعت پر واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سوات میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایئر ایمبولینس موجود تھی، تاہم وقت کی کمی کے باعث استعمال نہیں ہو سکی۔ مزید یہ کہ متعدد ذمہ دار افراد کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔





