جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ تحریک عدم اعتماد میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
قومی اخبار(جنگ ویب سائٹ)کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن نے واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی جماعت موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کو گرانے کے لیے اپوزیشن کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس پیش رفت کو پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی سیاسی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اس وقت داخلی سطح پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کے اندرونی بحران میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب جیل میں قید پارٹی کے پانچ سینئر رہنماؤں نے جاری سیاسی بے یقینی سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات کو قرار دیا۔
شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز احمد چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی کو موجودہ حالات سے نکالنے کے لیے بانی پی ٹی آئی سمیت تمام گرفتار قائدین کو مذاکرات میں شامل کیا جائے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا آغاز حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کے مطابق، مذکورہ خط پارٹی بانی کی مشاورت کے بغیر لکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر قیادت اور حکمت عملی کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دی گئی یقین دہانی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی مذاکرات کی اپیل سیاسی درجہ حرارت میں ممکنہ کمی کا عندیہ دے سکتی ہے، تاہم آئندہ دنوں میں سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوگا۔





