جامعہ پشاور میں اعلیٰ تعلیم زوال کا شکار، پی ایچ ڈی طلبہ کی تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی

یونیورسٹی آف پشاور میں اعلیٰ تعلیم زوال کا شکار ہو گئی ہے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تعداد میں نصف سے بھی کم رہ گئی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران کئی اہم مضامین میں ایک بھی طالب علم نے ایم فل یا پی ایچ ڈی میں داخلہ نہیں لیا۔

رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر سائنس جیسے جدید اور اہم مضمون میں گزشتہ پانچ سالوں میں صرف ایک طالب علم زیرِ تعلیم ہے جبکہ ڈیٹا سائنس، فیشن ڈیزائننگ اور انٹیریئر ڈیزائن جیسے شعبوں میں ایم فل یا پی ایچ ڈی کے لیے کسی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔

سافٹ ویئر انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی گزشتہ پانچ برسوں میں کوئی پی ایچ ڈی مکمل نہیں ہو سکی، اس کے علاوہ پولیٹیکل سائنس، سائیکالوجی، اردو اور ریجنل اسٹڈیز جیسے مضامین بھی طلبہ کی عدم توجہی کا شکار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی کے تین شعبوں، انٹیریئر ڈیزائن، بزنس انٹیلیجنس اور جینڈر سٹڈیز میں ہر پروگرام میں صرف ایک ایک طالب علم داخل ہے جبکہ پشتو، فلسفہ اور ریجنل اسٹڈیز کے تمام پروگرامز میں ایک بھی طالب علم موجود نہیں۔

پشاور یونیورسٹی کی مجموعی صورتحال بھی تشویشناک ہے 2020 میں جامعہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تعداد 178 تھی جو کم ہو کر 2025 میں صرف 66 رہ گئی ہے۔

اسی طرح 2022 میں تمام پروگرامز میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد 4708 تھی جو 2025 میں کم ہو کر 4081 رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ایڈورڈز کالج کےبورڈ آف گورنرز کا اجلاس،سالانہ بجٹ مشروط طور پر منظور

یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جامعات کی تعداد میں اضافے، فیسوں میں اضافہ اور سکالرشپس میں کمی طلبہ کی دلچسپی میں کمی کا باعث بنے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

Scroll to Top