پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اینٹی کرپشن ادارہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ اصل کرپٹ عناصر کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل(آج )کے مطابق تیمور جھگڑا نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے انہیں ایک ایسا نوٹس بھیجا گیا ہے جو ان کے بقول ’’طوطا مینا کی کہانی‘‘ لگتا ہے اور اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ صرف انہیں، عاطف خان اور اعظم سواتی کو نیب میں گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ واضح ثبوت کے باوجود دیگر کرپٹ افراد کو اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں۔
تیمور جھگڑا نے 8 فروری کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی دھاندلی میں ملوث ایک سرکاری افسر کو محکمہ فنانس کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، جس پر پی ٹی آئی حکومت مہربان ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’ایسے شخص کو انعام دینا کس قسم کے انصاف کے زمرے میں آتا ہے؟‘‘
انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے پاس اختیار تو ہے مگر وہ اسے صرف مخصوص افراد کے خلاف استعمال کر رہا ہے، جو کہ سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
تیمور جھگڑا نے الیکشن ٹربیونلز کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’513 دن گزر چکے ہیں لیکن الیکشن ٹربیونلز آج تک غیر فعال ہیں، جو انتخابی شفافیت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت فوری طور پر ایک آزاد انکوائری کمیشن قائم کرے تاکہ نہ صرف ان الزامات کی حقیقت سامنے آئے بلکہ سیاسی انتقام کا سلسلہ بھی بند ہو۔





