نیویارک : نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ خدشے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چین اور روس بیک وقت اور مربوط حملے کر سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں روٹے نے کہا کہ عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور چین و روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
روٹے کے مطابق اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بیجنگ، ماسکو سے نیٹو کی توجہ ہٹانے کے لیے یورپ پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں چین قیادت کرے گا، جبکہ روس اس کی مدد سے نیٹو کو الجھانے کی کوشش کرے گا۔
انٹرویو کے دوران سابق نیٹو سربراہ ینس سٹولٹن برگ نے بھی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کو نہ صرف روس کو روکنے کے لیے مضبوط ہونا ہوگا بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں بھی باہمی تعاون بڑھانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : پاک-افغان مذاکرات: دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں تعاون پر اتفاق
مارک روٹے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پالیسیوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ٹرمپ نے رکن ممالک کو دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی قیادت کے بغیر نیٹو اتحاد اپنی موجودہ سطح تک نہ پہنچ پاتا۔
واضح رہے کہ 2014 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد نیٹو رکن ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ صدر ٹرمپ اس حد کو 5 فیصد تک لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
روٹے نے زور دیا کہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نیٹو کو پہلے سے زیادہ متحد اور مستحکم ہونا پڑے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔





