انجینئرامیر مقام کا ہوٹل تجاوزات کی زد میں نہیں آتا ،ڈپٹی کمشنر سوات

ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان نے کہا ہے کہ 27 جون کو دریائے سوات میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد ضلعی انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے اور دریا کے قدرتی بہاؤ میں آنے والے تمام تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا چاہیے، نہ تو کوئی سیلاب آ رہا ہے اور نہ ہی اس وقت کوئی خطرہ موجود ہے، سیاح بلاخوف و خطر سوات کا رُخ کریں۔

اپنے دفتر میں نیو زکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق مینگورہ بائی پاس سمیت جن مقامات پر آپریشن کیا گیا، وہ تمام زمینیں شاملاتی ملکیتی تھیں اورغیر ممکن سیلاب کے تناظر میں ان پر قائم تجاوزات کو قانونی طریقے سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امیر مقام کا ہوٹل تجاوزات کی زد میں نہیں آتا کیونکہ وہ مکمل قانونی حیثیت رکھتا ہے اور ریونیو ریکارڈ اس کی تصدیق کرتا ہے۔

سلیم جان نے کہا کہ ہم نے کسی بھی ایسی ملکیتی زمین یا این او سی رکھنے والی عمارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تاہم بعض لوگوں نے این او سی لینے کے بعد تجاوزات قائم کئے جن کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر سوات نے بتایا کہ کالام میں 87 ہوٹلوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن میں سے 33 ہوٹلوں نے 2020 کے معاہدے کے باوجود تجاوزات قائم کئے۔ ان تمام ہوٹلوں اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

سانحہ سوات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس کی رپورٹ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (CMIT) کی سپیشل انکوائری کمیٹی جاری کرے گی۔

سلیم جان کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم کے بھی وہ فوائد حاصل نہ ہوں گے کیونکہ یہاں پر سیلابی صورتحال مختلف ہوتی ہے ۔

ڈپٹی کمشنر نے اعتراف کیا کہ سانحے کے دوران ریسکیو ٹیموں کو کشتیوں، لائف جیکٹس، رسیوں اور دیگر ضروری آلات کی شدید کمی کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیلاب عام سیلاب سے مختلف تھا، اس میں پانی کے ساتھ بڑے بڑے پتھر بھی شامل تھے جو نقصان کا باعث بنے۔انہوں نے کہا کہ غلطیوں سے سیکھا جا رہا ہے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ڈرون ٹیکنالوجی سمیت جدید آلات کی فراہمی کے لیے حکومت کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مالی سال 25-2024 کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں 1 لاکھ 8 ہزار 500 روپے کا اضافہ

سلیم جان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سوات کو محفوظ، قانون کے مطابق اور سیاح دوست علاقہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں، ہوٹل مالکان اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

Scroll to Top