باجوڑ، اے این پی رہنما مولانا خانزیب کے قتل کے بعد پرتشدد احتجاج، سرکاری عمارتوں پر حملے

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خانزیب کے قتل کے واقعے کے بعد ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔

مولانا خانزیب کو جمعرات کی سہ پہراس وقت نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا جب وہ 13 جولائی کو ہونے والے امن پاسون کے لیے مہم چلا رہے تھے۔

واقعے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی کارکنان اور شہری سڑکوں پر نکل آئے اور مولانا خانزیب کی میت کو سڑک پر رکھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا۔

مظاہرین نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکامی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ کیا۔

صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے باجوڑ اسکاؤٹس (فرنٹیئر کور) نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے ضلعی پولیس افسرکے دفتر کو بھی نشانہ بنایا۔

مولانا خانزیب کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے اسے ریاست کی امن قائم رکھنے میں ناکامی قرار دیا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مولانا خانزیب اور ان کے ساتھی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر بڑا اضافہ

انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

Scroll to Top