خیبرپختونخوا میں اساتذہ کا تاریخ ساز آن لائن جائزہ امتحان، تعلیمی نظام میں جدیدیت کی نئی بنیاد

خیبرپختونخوا میں اساتذہ کا تاریخ ساز آن لائن جائزہ امتحان، تعلیمی نظام میں جدیدیت کی نئی بنیاد

خیبرپختونخوا میں تعلیمی میدان میں ایک تاریخ ساز قدم اٹھاتے ہوئے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) نے صوبے بھر میں پہلی بار اساتذہ کے لیے آن لائن جائزہ امتحان کا کامیاب انعقاد کیا، جسے تدریسی معیار کی بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت کے ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (آج)کے مطابق امتحان میں صوبے کے 26 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 5,511 اساتذہ نے شرکت کی، جو ایک ہی وقت میں 42 مراکز پر منعقد ہوا۔ یہ امتحان ای ایس ای ایف کے نئے کوالٹی ایشورنس اینڈ اسسمنٹ سیل کی نگرانی میں ترتیب دیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد اساتذہ کی موجودہ تدریسی صلاحیتوں کا منظم تجزیہ اور مستقبل کی تربیتی ضروریات کا تعین کرنا ہے۔

چار بنیادی تدریسی شعبوں میں جانچ
اساتذہ کو درج ذیل تدریسی شعبوں میں پرکھا گیا
ریاضیاتی و تجزیاتی صلاحیت
مضمون کی فنی مہارت
تدریسی مہارتیں
کلاس روم مینجمنٹ
جدید ڈیجیٹل سسٹم کا استعمال

امتحان کے دوران شفافیت اور تکنیکی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ہر استاد کو منفرد آئی ڈی اور پاس ورڈ فراہم کیا گیا۔ تمام مراکز میں امتحان بیک وقت شروع کیا گیا، اور نتائج فوری طور پر آن لائن مہیا کیے گئے۔ اساتذہ کو پہلے سے رہنما ویڈیوز فراہم کی گئیں اور کسی بھی تکنیکی مسئلے کی صورت میں ماہرین کی آن لائن ٹیم دستیاب رہی۔

امتحان کی براہِ راست نگرانی
امتحان کے مؤثر انعقاد کے لیے لائیو اسسمنٹ روم قائم کیا گیا، جہاں سے تمام ضلع پروگرام افسران (ڈی پی او) آن لائن موجود رہے اور امتحانی عمل کی براہِ راست نگرانی کی گئی۔ ضلعی دفاتر، محکمہ تعلیم اور مقامی انتظامیہ نے مکمل تعاون فراہم کیا، جب کہ امتحان مرحلہ وار دو گروپوں میں منعقد کیا گیا تاکہ سہولت اور نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔

ایک انقلابی اقدام

ای ایس ای ایف کے ترجمان کے مطابق، یہ صرف ایک جائزہ امتحان نہیں بلکہ تعلیم میں میرٹ، شفافیت، اور ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ترجمان نے کہا:”ہم اساتذہ کی صلاحیتوں کو جانچ کر ان کی پیشہ ورانہ تربیت کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تاکہ طلبہ کو بہتر تدریسی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ماہرین تعلیم کا مؤقف
ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ یہ اقدام اساتذہ کی پیشہ ورانہ ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور آئندہ تربیتی پروگرامز کو سائنسی بنیادوں پر ہدفی انداز میں ترتیب دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس نظام کو مستقبل میں پورے ملک میں بطور مثالی تعلیمی ماڈل بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top