معروف پشتو شاعر مطیع اللہ تراب انتقال کر گئے

پشتو زبان کے معروف شاعر، ادیب اور مصنف مطیع اللہ تراب دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے ادب دوست حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔

مطیع اللہ تراب کا تعلق افغانستان سے تھا اور وہ پشتو ادب میں ایک معتبر مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے پشتو زبان میں کئی شعری مجموعے اور ادبی کتابیں تحریر کیں جو علمی و ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوئیں۔

ان کی شاعری میں پشتون ثقافت، محبت، امن اور مزاحمت کے موضوعات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ مطیع اللہ تراب کو ان کی سادہ، پُراثر اور دل کو چھو لینے والی شاعری کے باعث افغانستان اور پاکستان میں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔

ادبی حلقوں نے ان کے انتقال کو پشتو ادب کا بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ مطیع اللہ تراب کی ادبی وراثت نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔

Scroll to Top