لنڈی کوتل: ہائی وے پر زیر تعمیر پلوں نے ٹرانسپورٹرز اور طلبہ کی مشکلات بڑھا دیں

خیبر، لنڈی کوتل: پاک افغان ہائی وے پر جاری ترقیاتی کاموں کے باوجود لنڈی کوتل کے رہائشیوں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً نامکمل پلوں کی وجہ سے مون سون کی بارشوں میں راستے مزید ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق اگرچہ ہائی وے پر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے، تاہم کئی مقامات پر پلوں کی عدم موجودگی بارش کے دوران ٹریفک کی روانی کو مکمل طور پر روک دیتی ہے۔

اس تعطل کے باعث نہ صرف طلباء کے لیے اسکول جانا دشوار ہو گیا ہے بلکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے اور روزمرہ آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک مقامی طالب علم نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ پل مکمل نہ ہونے کے سبب اکثر اسکول بند رہتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کو تاخیر سے پہنچنے کے باعث قانونی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس ٹریننگ اسکول مانسہرہ میں 47ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب

ایک ٹرک ڈرائیور نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ صرف مقامی سڑک نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تجارتی راستہ ہے۔ افغانستان کو جانے والے سینکڑوں ٹرک روزانہ اسی شاہراہ سے گزرتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پلوں کی تعمیر جلد از جلد مکمل کریں تاکہ تعلیم، صحت اور تجارت جیسے اہم شعبے مزید متاثر نہ ہوں۔

Scroll to Top