مخصوص نشستوں پر حلف نہ ہونے پر مسلم لیگ (ن) پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

پشاور:مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کی درخواست کی سماعت، اسپیکر اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری

(کامران علی شاہ )پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین اسمبلی سے حلف نہ لینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید نے کی۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ 21 جولائی کو سینیٹ الیکشن ہے، اب تک مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا، اس سے قبل اسی عدالت نے حلف لینے کے لیے وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو حکم دیا تھا۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس نے تو کسی کو نامزد نہیں کیا تھا حلف لینے کے لیے، اگر یہ کیس چیف جسٹس کو بھیجیں تو وہ کس قانون کے مطابق حلف کے لیے کسی کو نامزد کریں گے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ آئین میں ترمیم کے بعد چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے،مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، لیکن حلف نہیں لیا جارہا،2 جولائی کو الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق دوبارا فہرست جاری کی، 8 جولائی کو اسپیکر کو حلف کے لیے خط لکھا گیا،9 جولائی کو اسپیکر نے کہا کہ میں اسمبلی اجلاس نہیں بلاتا، حلف نہیں لیتا، 10 جولائی کو اراکین نے چیف الیکشن کمشنر کو حلف کے لیے رابطہ کیا۔

انہوںنے مذید بتایا کہ اراکین نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ چیف جسٹس کو حلف کے لیے ریکوسٹ کردیں،الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی اور گورنر کو حلف لینے کے لیے خط لکھا،حمزہ شہباز کیس میں صدر پاکستان تک کو حکم دیا گیا کہ حلف لیں اگر گورنر نہیں لیتا،الیکشن کمیشن کے ڈائریکشن ہائیکورٹ فیصلے کے متبادل ہے،آخری بار بھی جب انہوں نے حلف نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات ملتوی کردی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزیر اعلیٰ کے پاس گئے ؟اس نے انکار کیا،یہ کہیں نہیں گئے اور یہاں آگئے۔

یہ بھی پڑھیں : اے این پی کا مولانا خانزیب کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہاکہ آپ دونوں کو ہم کل سن لیتے ہیں، آج ہمارا اہم اجلاس ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور اسپیکر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی

Scroll to Top