گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس ایک ووٹ کی بھی اکثریت ہوئی تو وہ تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے، کیونکہ یہ جمہوری و آئینی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا گورنر راج لگانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور نہ ہی ہم کسی کو سیاسی شہید بنانا چاہتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد لانا آئین کے دائرہ کار میں ہے اور اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حالت ایسی نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ چل سکے، اور پارٹی کے اندر اختیارات کی واضح تقسیم بھی دکھائی نہیں دیتی۔
فیصل کریم کنڈی نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پانچ اور حکومت کے چھ سینیٹرز بنتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ تمام نمائندے بلامقابلہ منتخب ہوں تاکہ سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنا حکومت کی ذمے داری ہے، اور ہم اس عمل کو شفاف اور پُرامن دیکھنا چاہتے ہیں۔
گورنر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی غیر جمہوری عمل کے حامی نہیں، نہ گورنر راج لگائیں گے اور نہ ہی اپوزیشن کی جائز سیاسی کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں استحکام اور جمہوریت کا تسلسل اولین ترجیح ہے۔





