وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11.37 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا ہے، تاہم عوامی توقعات کے برعکس پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بدستور قائم رہے گا۔
نجی ٹی وی چینل (سما)کیمطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جولائی سے اگلے 15 روز کے لیے کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق:
پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ
لیوی اپنی جگہ برقرار
حکومت نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کے باعث نہیں کیا گیا، بلکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیٹرول پر لیوی 75.52 روپے فی لیٹر
ڈیزل پر لیوی 74.51 روپے فی لیٹر بدستور برقرار ہے
عوامی ریلیف ایک بار پھر مؤخر
ماہ جولائی کے ابتدائی پندرہ روز بعد ہونے والے اس اضافے سے عوامی حلقوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ لیوی برقرار رکھے جانے کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس قیمتوں میں کمی کا فوری کوئی ارادہ نہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی کی موجودہ لہر کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
پس منظر
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور لیوی کی بھاری شرح کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عوامی و تجارتی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت لیوی میں کمی کر کے فوری ریلیف فراہم کرے۔





