اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 16 جولائی 2025 کو خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں روا رکھے جانے والے مبینہ غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق عمران خان کو کتابیں پڑھنے، وکلاء اور اہل خانہ سے ملاقات جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی اپنے شوہر اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بھی ہدفِ تنقید بنایا گیا، جس کے تحت جمشید دستی کو آئین کے آرٹیکل 62 (1)(D) کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔
تحریک انصاف نے اس فیصلے کو دائرہ اختیار سے تجاوز اور سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور جمشید دستی کے مکمل دفاع کا اعلان کیا۔ اعلامیہ میں اس سے قبل تحریک انصاف کے دیگر اراکین کی نااہلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تمام کارروائیاں مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں فیصل آباد میں پی ٹی آئی کارکنوں پر درج مقدمات، قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کے خلاف مبینہ من گھڑت کیس، اور مہنگائی، پٹرول و چینی کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ سیاسی اور قانونی محاذ پر تمام ساتھیوں کا دفاع کرے گی، عوامی رابطہ مہم تیز کی جائے گی، اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک انصاف تیسری بار اقتدار میں آئی لیکن کوئی قابل ذکرکارکردگی نہیں دکھائی،آفتاب احمد خان شیرپاؤ
بلوچستان کے ضلع قلات میں بس پر دہشت گرد حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اپنے قائد عمران خان کے نظریے پر کاربند رہے گی اور ہر قسم کی سیاسی، عدالتی یا انتظامی زیادتی کے خلاف پرعزم جدوجہد جاری رکھے گی۔





