اسلام آباد : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اصل خطرہ اپوزیشن سے نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے داخلی اختلافات سے ہے۔
ان کے مطابق گورنمنٹ عہدیدار اب پارٹی کے افراد کو سرکاری گاڑیاں، عہدے، پروٹوکول اور دیگر مراعات دے کر انہیں اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کے حامی بن جائیں۔
ثمر ہارون نے پشتون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے حکومت کی سرد مہری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں پچھلے دس روز میں متعدد افسوسناک واقعات پیش آئے، لیکن حکومت کی بے حسی واضح رہی۔ نہ وزیراعلیٰ وہاں پہنچے، نہ کسی وزیر نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جو لوگ کل تک موروثی سیاست پر نکتہ چینی کرتے تھے، آج وہ عمران خان کے بچوں کے سیاسی مستقبل کے منتظر ہیں۔
ثمر ہارون نے کہا کہ قیدیوں کو اپنے خاندان سے ملاقات کا حق حاصل ہونا چاہیے اور انہیں سیاسی تماشے کا حصہ نہ بنایا جائے ثَمَر ہارون نے سیاسی تجزیہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہر سیاسی جماعت میں تنظیمی عہدہ اہم ہوتا ہے، لیکن یہاں ایک وزیراعلیٰ نے کرسی سنبھالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ریاستی اداروں کی مخالفت کرنیوالوں کو پاکستان میں رہنے کا حق نہیں، ظاہر شاہ شیرازی
علی امین گنڈاپور کے لیے حکومت پیسہ بنانے کا ذریعہ بن گئی ہے، جو سینیٹ انتخابات میں واضح طور پر نظر آئے گا۔
ان کا موقف ہے کہ اگر حکومت عہدیداروں کو سرکاری وسائل فراہم کر کے پارٹی میں وفاداری حاصل کر رہی ہے، تو یہ لالچ نہ صرف داخلی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ آئندہ انتخابات کے نتائج پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔





