پشاور(کامران علی شاہ) ایپکا ضلع پشاور کے صدر ہمایون خان گنڈاپور نے کہا ہےکہ محکمہ ایلمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن میں ریشپلنگ پالیسی کے تحت پے در پے تبادلوں کے احکامات سے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور محکمے کے ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے،عمل سے بچوں کے تعلیم پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہذا اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔
جاری بیان میں ہمایون خان گنڈاپور نے محکمے کے مختلف پراجیکٹس میں کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ عناصر نے ذاتی مفادات کےلئے محکمے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے جس میں ارلی چائلڈ ایجوکیشن پراجیکٹ کےلئے فرنیچر کی خریداری میں چھ ارب روپے کا خردبرد کیا گیا ہے ،اسی طرح آئی ٹی لیب،سولر سسٹم کی تنصیب اور فیول کے مد میں بھی 65کروڑ روپے اُڑائے گئے ہیں جس سے محکمے کے ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔
ضلعی صدر ایپکا نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمے کی قیمتی گاڑیاں منظور نظر و اہل افراد کے زیر استعمال ہے جبکہ چند گاڑیوں پر ریٹائرڈ ملازمین کے بچے عیاشیاں کر رہے ہیں ۔
ہمایون خان گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ رشپلنگ پالیسی کے تحت تبدیل ہونے والے ملازمین سے ہزاروں روپے و دیگر مراغات کے مطالبات کو فی الفور رکا جائے اور ڈائریکٹوریٹ میں دس بار سال سے سیٹوں پر براجمان افراد کا احتساب کیا جائےساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ محکمہ خردبردکے خلاف اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے۔





