شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں اُتمانزئی قبیلے کے عمائدین پر مشتمل قبائلی جرگے نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں پائیدار امن قائم کیا جائے، عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
امن جرگہ ضلعی ہیڈکوارٹر میرانشاہ میں منعقد ہوا جس میں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے معزز مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
جرگے کے ترجمان مفتی بیت اللہ کا کہنا تھا کہ کہ اتمانزئی قبیلہ، سیاسی اتحاد اور مقامی عوام ایک مؤقف پر متفق ہیں کہ مزید کسی آپریشن یا علاقہ مکینوں کی جبری نقل مکانی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مختلف ناموں سے کئی آپریشنز کیے جا چکے ہیں مگر ان کا کوئی دیرپا اور مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا، ان کا کہنا تھا کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ قبائل کے مسائل کو مشاورت اور سیاسی حکمت عملی سے حل کیا جانا چاہیے۔
مفتی بیت اللہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومت سے بعض امور پر پیش رفت ہوئی ہے جن میں پاک افغان غلام خان بارڈر کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بحالی، کرفیو میں نرمی اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اجازت شامل ہیں۔
جرگے کے ترجمان مفتی بیت اللہ نے اُمید ظاہر کی کہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کا سلسلہ کامیابی کی طرف بڑھے گا اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر گل عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
جرگے نے ملک اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا جو گزشتہ آٹھ ماہ سے قید میں ہیں، مشران کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی عوام کے حکومت پر اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔
اُتمانزئی جرگے کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اگلا امن جرگہ تحصیل دتہ خیل میں منعقد ہوگا جہاں کے عوام گزشتہ گیارہ روز سے مسلسل کرفیو کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کی ملاقات
جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دتہ خیل میں نافذ کرفیو میں نرمی کی جائے اور علاقے میں امن و امان کے تمام معاملات کو مشترکہ مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔





