جنوبی وزیرستان لوئر کے صدر مقام وانا میں آٹھ روز سے جاری متحدہ سیاسی امن پاسون کا احتجاجی دھرنا کامیاب مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔
سول انتظامیہ اور عسکری حکام سے ہونے والے مذاکرات کے بعد دھرنے کے تینوں مطالبات تسلیم کر لیے گئے جن میں امن و امان کی بحالی، انگور اڈہ بارڈر گیٹ کا دوبارہ کھولنا اور معدنیات پر مقامی لوگوں کو مالکانہ حقوق دینا شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر محمد ناصر خان نے دھرنے کے پنڈال میں آ کر مظاہرین سے خطاب کیا اور انہیں مکمل یقین دہانی کرائی کہ مطالبات پر آج سے ہی عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا، اس موقع پر عسکری افسران اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
ترجمان امن پاسون نے مذاکرات کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنا عوامی حمایت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت ہی ان مطالبات کی منظوری کا باعث بنی۔
پولیس اور ایف سی کی مشترکہ گشت کا آغاز کیا جائے گا، کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف ایکشن ہوگا اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
بارڈر سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات چند روز میں مکمل کر کے گیٹ کو کھول دیا جائے گا، بارڈر سہولیات سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
مقامی آبادی کو معدنی وسائل پر مکمل مالکانہ حقوق دیے جائیں گے اور کسی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان، اتمانزئی جرگہ کا امن کی بحالی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
دھرنے کے منتظمین نے کہا کہ دھرنا مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو مہلت دی گئی ہے، اگر وعدوں پر پیش رفت نہ ہوئی تو مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔





