شیرپاؤ زیم: قومی وطن پارٹی خیبرپختونخوا کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات شیرپاؤ نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور ذاتی تشہیر سے باہر نکل کر صوبے کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔
شیرپاؤ زیم میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سکندر شیرپاؤ نے موجودہ سیاسی اتحادوں کو صرف سینیٹ انتخابات کے لیے وقتی گٹھ جوڑ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ میں لگی ہوئی ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج، سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کی سیاست سے ہٹ کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
سکندر حیات شیرپاؤ نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں لیکن حکومت اور ریسکیو ادارے مکمل طور پر ناکام رہے۔
انہوں نے باچا خان یونیورسٹی سے 149 ملازمین کو نکالنے کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت روزگار دینے کے بجائے عوام سے روزگار چھین رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات کے وقت حکومت ہر جماعت سے اتحاد کر لیتی ہے، لیکن صوبے کے بنیادی مسائل جیسے بجلی اور گیس کی مقامی پیداوار کے باوجود عوامی محرومی کو مکمل نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : میاں افتخار حسین کی مولانا عطاء الرحمن سے ملاقات، قومی امن جرگہ میں شرکت کی دعوت
سکندر شیرپاؤ نے انتخابی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی باقی نہیں رہی، جبکہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہے، جس کے باعث پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
قومی وطن پارٹی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق پر انحصار کم کرے اور خود اختیاری پالیسی اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی، روزگار اور عوامی خوشحالی آفتاب احمد خان شیرپاؤ جیسے سنجیدہ اور قومی سوچ رکھنے والے قیادت سے ہی ممکن ہے۔





