خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کی تیاریاں مکمل،11 نشستوں پر 25 امیدوار میدان میں

خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کی تیاریاں مکمل،11 نشستوں پر 25 امیدوار میدان میں

خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 خالی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 25 امیدوار میدان میں اترے ہیں، جبکہ پولنگ کا عمل کل صبح 11 بجے شروع ہوگا۔

نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز)کے مطابق الیکشن کمیشن نے پولنگ کے لیے صوبائی اسمبلی کے جرگہ ہال کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا ہے، جہاں دو پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ کمیشن کی جاری کردہ فہرست کے مطابق 11 نشستوں کے لیے 25 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 7 جنرل نشستوں کے لیے 16، ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں کے لیے 5 اور خواتین کی دو نشستوں کے لیے 4 امیدوار شامل ہیں۔

البتہ بیشتر امیدوار پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں، جن کے نام بیلٹ پیپرز پر شامل نہیں ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جو امیدوار اتوار دوپہر 12 بجے کے بعد دستبردار ہوئے، ان کے نام بیلٹ پیپر پر موجود ہوں گے تاہم ان کے آگے ’’ریٹائرڈ‘‘ کی مہر ثبت کی جائے گی۔

انتخابی معرکے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بلامقابلہ فارمولے کے تحت نشستوں کی تقسیم طے پا چکی ہے، جس کے تحت اپوزیشن کو 6 اور حکومت کو 5 نشستیں دی گئی ہیں۔

جنرل نشستوں پر حکومتی امیدواروں میں مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور نورالحق قادری شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مولانا عطا الحق درویش (جے یو آئی)، طلحہ محمود (پیپلز پارٹی) اور نیاز احمد (ن لیگ) میدان میں ہیں۔

پی ٹی آئی کے ناراض امیدوار خرم ذیشان نے کاغذات واپس نہیں لیے، جبکہ دیگر ناراض امیدوار عرفان سلیم، وقاص اورکزئی اور دیگر کے نام بیلٹ پیپرز پر ’’ریٹائرڈ‘‘ کے طور پر شامل ہوں گے۔

خواتین کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد، پی ٹی آئی کی روبینہ ناز اور مہوش علی کے درمیان مقابلہ ہوگا، جبکہ ناراض امیدوار عائشہ بانو کا نام بھی بیلٹ پیپر میں موجود ہے۔

ٹیکنوکریٹ نشستوں پر اعظم سواتی (پی ٹی آئی)، دلاور خان (جے یو آئی) اور تین ناراض امیدوار سید ارشاد حسین، خالد مسعود اور وقار احمد قاضی مدمقابل ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر میڈیا کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میڈیا نمائندگان کو اسمبلی گیٹ پر ہی روک دیا گیا ہے، جہاں کئی میڈیا ٹیمیں موجود ہیں۔

Scroll to Top