مذاکرات ناکام،یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش کے خلاف ملازمین کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا

اسلام آباد:یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے فیصلے کے خلاف ملازمین کا احتجاج تیسرے دن میں داخل ہو گیا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وزارت صنعت و پیداوار کے درمیان ابتدائی مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔

دھرنے میں شریک ملازمین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اگر ریاستی طاقت استعمال کی گئی تو وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو بند کرنے کا غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملازمین پر لگائے گئے الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما عارف حسین شاہ نے کہا کہ یو ایس سی کے ملازمین پرامن پاکستانی شہری ہیں اور پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے، جسے سلب نہ کیا جائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کی صبح 10 بجے دھرنے کے شرکا آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

کوہستان کرپشن اسکینڈل عوامی وسائل کی لوٹ مار کی ایک شرمناک مثال ہے،رہنما پیپلز پارٹی

مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور یہ دھرنا تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Scroll to Top