پاکستان میں لاکھوں موبائل فون بند، پی ٹی اے نے اصل وجہ بتا دی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں موبائل فونز کی مقامی تیاری میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ چوری شدہ اور جعلی ڈیوائسز کے خلاف مؤثر کارروائی بھی جاری ہے۔

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق 8 لاکھ 26 ہزار چوری شدہ موبائل فونز کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی موبائل بلاکنگ سسٹم ڈی آئی آر بی ایس (DIRBS) کے تحت کی گئی، جس کا مقصد مارکیٹ میں غیر قانونی اور چوری شدہ ڈیوائسز کی گردش کو روکنا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 5کروڑ 50 لاکھ جعلی یا نقل شدہ فونز بھی بلاک کیے جا چکے ہیں، جو کہ صارفین کے تحفظ اور مارکیٹ میں شفافیت کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق 2019 سے اب تک ملک میں 13 کروڑ 60 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 37 فیصد اسمارٹ فونز پر مشتمل ہیں۔

سال 2024 کے دوران 3 کروڑ 13 لاکھ 80 ہزار فونز تیار کیے گئے، جبکہ صرف 2025 کے ابتدائی پانچ مہینوں میں ہی 1 کروڑ 20 لاکھ فونز مقامی سطح پر تیار ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کمرشل درآمدات میں نمایاں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 2019 میں جہاں کمرشل درآمد شدہ موبائل فونز کی تعداد 1 کروڑ 62 لاکھ تھی، وہ اب کم ہو کر صرف 7 لاکھ رہ گئی ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ مقامی مینوفیکچرنگ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں امن کی بجائے انتشار کو ہوا دی، وفاقی وزیر احسن اقبال

ملک میں اس وقت 36 کمپنیاں مقامی سطح پر موبائل فونز تیار کر رہی ہیں، جن کے باعث 60 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ انفرادی درآمدی کیٹیگری سے حکومت کو گزشتہ 6 سالوں میں 83 ارب روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا ملا ہے بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ کا فروغ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

Scroll to Top