چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی معاملات کو دو شفٹوں میں چلانے کا معاملہ زیر غور ہے تاکہ کیسز کو مقررہ وقت میں حل کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وہ بطور چیف جسٹس پاکستان آزاد، غیرجانبدار اور ایماندار جوڈیشل افسروں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا گیا ہے اور ملک بھر میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے لیے پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے اور سیاسی وابستگی سے پاک نوجوان وکلا کو سامنے لایا جائے گا تاکہ عدالتی نظام مضبوط ہو۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کے قیام پر کام جاری ہے اور اس مقصد کے لیے جوڈیشل افسروں کو تربیت بھی دی گئی ہے۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی کا کہنا تھا کہ قانون کے بہترین ماہرین کی بنیاد پر کیسز سننے کا سلسلہ جاری ہے اور میرا خواب ہے کہ متاثرہ سائلین اعتماد کے ساتھ عدالتوں میں آئیں کہ انہیں انصاف ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اپر کوہستان سکینڈل، عدالت کا نیب کو درخواست گزار کو ہراساں نہ کرنے کا حکم
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی معاملات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی غور کرنے کی بات کی اور کہا کہ عدلیہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





