افغان طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا متوقع دورۂ پاکستان غیر متوقع طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق دورہ ’’تکنیکی وجوہات‘‘ کی بنا پر مؤخر کیا گیا، تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)کے مطابق امیر خان متقی کو آج 4 اگست کو ایک تین روزہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچنا تھا، جہاں ان کی ملاقاتیں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام سے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور پر طے تھیں۔
یہ دورہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے رواں برس اپریل میں کابل کے دورے کے دوران دی گئی باضابطہ دعوت کے جواب میں ترتیب دیا گیا تھا۔ افغان وفد میں نائب وزیر برائے صنعت و تجارت قدرت اللہ جمال سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران کی شمولیت بھی متوقع تھی۔
پس منظر، بڑھتے سکیورٹی خدشات اور دوطرفہ تعلقات
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں کئی سفارتی روابط اور تکنیکی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں ازبکستان میں ہونے والی سہ فریقی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد علاقائی استحکام، تجارتی تعلقات کی بہتری، اور بارڈر سیکیورٹی جیسے اہم معاملات پر پیش رفت کرنا تھا۔
پاکستان کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسی تنظیموں کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہے، تاہم طالبان قیادت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں، جس پر پاکستان نے سیکیورٹی
خدشات کا اظہار کیا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی؟
افغان وزیر خارجہ کا یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا تھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کو سرحدی کشیدگی، مہاجرین کے مسائل اور انسداد دہشت گردی تعاون جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ امیر خان متقی کا یہ دورہ کب تک مؤخر کیا گیا ہے اور نئی تاریخ کا اعلان کب کیا جائے گا۔ تاہم سفارتی ذرائع اس بات کے منتظر ہیں کہ جلد از جلد دوبارہ شیڈولنگ کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہو۔





