خیبرپختونخوا میں کمزور تعلیمی ادارے نجی شعبے کو منتقل کرنے کی منظوری

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے کمزور کارکردگی والے اسکولوں اور کالجز کی آؤٹ سورسنگ کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منگل کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور آؤٹ سورسنگ کا مقصد تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ آؤٹ سورس کیے جانے والے اداروں کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس میں جامع KPI’s (کلیدی کارکردگی اشاریے) اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا کردار اہم ہوگا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ان اداروں کا سروے مکمل کریں اور آؤٹ سورسنگ کا عمل مرحلہ وار مکمل کریں تاکہ یہ منتقلی منظم انداز میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی قیادت صبح بھڑکیں مارتی ہے، رات کو پاؤں پکڑتی ہے، خواجہ آصف

اجلاس میں بتایا گیا کہ اگلے سال تک صوبے بھر کے کمزور کارکردگی والے 1,500 اسکولز اور 55 کالجز کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، جن میں ضم شدہ اضلاع کے 500 اسکولز بھی شامل ہیں۔

مزید برآں اجلاس کے دوران ان اداروں کے لیے تیار کیے جا رہے فنانشل ماڈل پر بھی بریفنگ دی گئی، جو اب تیاری کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں کی فعالیت بڑھانا، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانا اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا ہے، تاکہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

Scroll to Top