پشاور: افغان کاروباری طبقے کو اور پاکستان میں 50 سال سے موجود افغان مہاجرین کو بے دخلی کی 24 روز کی مدت میں توسیع دی جائے بصورت دیگر خود سوزی کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار افغان مہاجرین متحدہ عالی شورہ کے چیئرمین بریالے میاں خیل اور افغان تاجر اتحاد کے چیئرمین سعید نقیب باچا نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور خصوصا خیبر پختون خواہ کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ 50 سالوں سے انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا لیکن 24 دن میں 30 لاکھ افغان مہاجرین کیسے اپنا کاروبار سمیٹ کر افغانستان جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہاں ہماری نسلیں آج آباد ہیں ،نصف صدی کے سفر کو کیسے 24 دن میں سمیٹیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یو این ایچ سی آر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امارات اسلامیہ افغانستان 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بیک وقت کیسے بوجھ اٹھائے گی کیونکہ افغانستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ بے سر و سامانی کی حالت میں پاکستان سے جانے والے مہاجرین کا بوجھ اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان افغان عوام کی بے دخلی کی مدت پر نظر ثانی کرے اور افغان عوام کو مہلت دے کے وہ اپنا کاروبار سمیٹ لیں اور اپنی جمع پونجی کوڑیوں کے مول فروخت نہ کریں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان مہاجرین متحدہ علی شورہ کے چیئرمین نے کہا کہ پی او ار کارڈ ہولڈر کو طویل المدوتی ویزے جاری کیے جائیں کیونکہ مختصر ویزوں کی وجہ سے ان کو پھر دوبارہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔
انہوں نے افغانستان میں موجود پاکستانی کونسلیٹ پر الزام لگایا کہ وہاں پر ویزہ لینا بہت مشکل ہے، چھ ،چھ ماہ ویزے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب ویزا لگانے کے لیے انہیں ٹاؤٹوں کے ذریعے ایک ہزار ڈالر دینا پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان جانے والے افغانیوں کو پہلے یو این ایچ سی ار کی طرف سے 400 ڈالر فراہم کیے جاتے تھے اور اب افغانستان جانے والوں کو 35 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان جانے والے مہاجرین کو ایک ہزار ڈالر پر خاندان فراہم کیا جائے کیونکہ افغان مہاجرین میں 85 فیصد نوجوان ہیں جو اس وقت افغانستان جا کر بےروزگاری کا شکار ہوں گے اور عوام کو پتہ ہے کہ بے روزگار لوگ کیا کرتے ہیں یا تو وہ دہشت گرد بنیں گے یا وہ ڈاکو بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 50 سال سے پاکستان میں اباد افغان خاندانوں کی واپسی کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے اور بے سر و سامانی کی حالت میں انہیں بے دخل نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نہ تو تعلیم ہے اور نہ روزگار پاکستان میں زیر تعلیم افغان بچے اور بچیوں کو تعلیم مکمل کرنے تک بے دخل نہ کیا جائے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر مذاکرات کریں اور ان کی غلط فہمیاں دور کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر طالبان گورنمنٹ اور پاکستانی حکومت مل بیٹھ کر افغانوں کے مستقبل کا درست فیصلہ کریں تاکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں پھیلی ہوئی بے چینی ختم ہو ۔
انہوں نے کہا کہ ہم تیار ہیں کہ پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان جو غلط فہمیاں ہیں اسے جرگے کے ذریعے حل کرنے کے لیے۔ انہوں نے کور کمانڈر پشاور سے پرزور مطالبہ کیا کہ خیبر پختون خواہ کے افغان مہاجرین شورہ سے مذاکرات کریں اور ان کے مسائل حل کریں اور ان کی آوازآرمی کے ایوانوں تک پہنچائیں جو غلط فہمی کا شکار ہیں۔
پریس کانفرنس سے افغان تجارتی رہنما سعید نقیب باچا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر محسن نقوی صاحب افغانستان سے ناراض ہو کر آئے ہیں تو اس کی سزا ہمیں نہ دی جائے ہم جرگے کے طور پر پاکستان اور افغانستان میں معاملات درست کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین اور بچوں کے ساتھ پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں جو ظلم ناروا شروع ہوا ہے اسے بند کیا جائے کیونکہ ایسا ظلم تو گھر سے نکالنے والے کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، خواتین اور نوجوانوں کو زبردستی پکڑ دھکڑ کر کے پابند سلاسل کر کے بارڈر پار کرائے جا رہے ہیں اور ان کی جمع پونجی ادھر ہی رہ جاتی ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ملاقات ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ہوئی ہے لیکن ان کی بات چیت سے معلوم ہوا کہ دونوں اعلی عہد دار ایک پیج پر نہیں ہیں۔
سعید نقیب بادشاہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 30 لاکھ افغان مہاجرین کو اگر نکالنا ہے تو بارڈر کھول دیں اور بائیومیٹرک کا سلسلہ بند کیا جائے تو تمام پاکستان میں مقیم افغان اکٹھے افغانستان کو چلے جائیں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے بے دخل کیے گئے افغان مہاجرین اس وقت افغانستان میں قسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ افغان حکومت کے پاس مسائل زیادہ ہیں اور وسائل نہیں ہیں جو بیک وقت جانے والے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ جو بچے پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں 50 سالوں کے دوران انہیں پاکستانی نیشنلٹی دینی چاہیے نہ کہ انہیں بے دخل کیا جائے۔





