جب تمام راستے بند ہو جائیں تو آخری حربہ آپریشن ہی رہ جاتا ہے،فیصل کریم کنڈی

سوات (شہزاد نوید)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات کا دورہ کیا ۔ اس دوران انہوں نے کانجو ٹاون شپ میں پاکستان ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کے دفتر میں ایمرجنسی ریسکیو سنٹر کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر گورنر نے دو ایمبولینس گاڑیاں، پانچ مقامی کشتیاں ہلال احمر سوات کے زمے داروں کے حوالیں کیں جبکہ فرسٹ ایڈ کٹس رضاکاروں میں تقسیم کئے انہوں نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مقامی رضاکاروں کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے ملکی سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں ہم نے ایک پرامن خیبرپختونخوا دیا، لیکن پی ٹی آئی نے بدامنی واپس لا کر صوبے کو عدم استحکام کا شکار بنایا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، بلکہ امن چاہتے ہیں چاہے وہ مذاکرات سے ہو یا کسی اور طریقے سے، تاہم جب تمام راستے بند ہو جائیں تو آخری حربہ آپریشن ہی رہ جاتا ہے۔

گورنر نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والے 700 ارب روپے کا حساب مانگتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوئی، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ سال گزرنے کے باوجود ضم اضلاع کو سالانہ 100 ارب روپے فراہم نہیں کئے گئے، جو ان کے ساتھ وعدہ خلافی کے مترادف ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان جلسے جلوسوں سے باہر نہیں آئیں گے، انہیں چاہیے کہ عدالتوں میں پیش ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پانچ سے زائد فرنچائز بن چکی ہیں اور علی امین گنڈاپور وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، اور عوام کے بجائے وزراء کے بچوں کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں 5.5 کا برابر حصہ دیا جن میں سے ایک سیٹ بھی ہماری ہے۔

گورنر نے علی امین گنڈاپور پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ جب وہ وزیراعلیٰ بنے تو کور کمانڈر سے ملنے چلے گئے جبکہ انہوں نے خود گورنر بننے کے بعد سب سے پہلے بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو کی قبروں پر حاضری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : 24 دن میں کیسے کاروبار سمیٹ کر افغانستان جائیں،افغان مہاجرین رہنما

انہوں نے 27جون کو سانحہ دریائے سوات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو بھی صوبائی حکومت کی ذمےد اری قراردیتے ہوئے کہاکہ کہ سولہ جانیں دریا میں جانے کے باوجود حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اور الٹا جانیں بچانے والے ریسکیو اہلکار عصمت علی کو معطل کردیا گیا ہے۔

Scroll to Top