پاکستان میں انٹرنیٹ پیکج اچانک اتنے مہنگے کیوں ہوگئے،تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں صارفین کو مہنگے انٹرنیٹ اور ناقص سروسز کا سامنا کافی عرصے سے ہے اور اب یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ مختلف انٹرنیٹ فراہم کنندگان نے اپنی فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے حال ہی میں اپنے انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جب کہ زونگ، جاز، یوفون اور ٹیلی نار جیسی موبائل سروسز کی طرف سے بھی صارفین مہنگے پیکجز کی شکایات کر رہے ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی سی ایل اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے پس پردہ ممکنہ وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کمپنیاں فوری ردعمل دیتی ہیںمگر خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔

موصول ہونے والی شکایات میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین کے لیے انٹرنیٹ کی قیمتیں مناسب بنانے میں کردار ادا کرے۔

پی ٹی سی ایل نے یکم اگست 2024 سے اپنے فائبر ٹو دی ہوم انٹرنیٹ پیکجز کی فیس میں اضافہ کیا ہے، اور صارفین کی جانب سے فراہم کردہ بلنگ ڈیٹا کے مطابق، 20 ایم بی پی ایس انٹرنیٹ کی ماہانہ قیمت تقریباً 3,449 روپے (ٹیکس کے بغیر) سے بڑھ کر ٹیکس سمیت چار ہزار روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح، صارفین کے ماہانہ بل میں 600 سے 700 روپے تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جو پچھلے مہینے 3,200 سے 3,300 روپے کے درمیان تھے اور اب 3,700 سے 3,800 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

جہاں تک موبائل انٹرنیٹ سروسز کا تعلق ہے تو یکم جولائی 2025 کے بعد زونگ، جاز، ٹیلی نار اور یوفون نے قیمتوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا البتہ سوشل میڈیا پر صارفین کی طرف سے معمولی قیمت بڑھنے کی شکایات سامنے آئی ہیں مگر اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

ٹیلی کام کمپنیاں قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ آپریشنل اخراجات کو قرار دیتی ہیں، جس میں بجلی کے بل، آلات کی مرمت، نیٹ ورک ٹاورز کی دیکھ بھال اور ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔

Scroll to Top