اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ علیمہ خان اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ ہیں اور انہیں کبھی گرفتار نہیں کیا گیا وہ ہر جگہ دندناتی پھرتی ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ علیمہ خان کا پارٹی میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، وہ فتوے بانٹ رہی ہیں اور گالم گلوچ پر اُتر آئی ہیں۔ میرا اتنا بڑا دل نہیں کہ یہ ساری چیزیں درگزر کردوں
انہوں نے مزید کہا کہ علیمہ خان نے انہیں اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ کہا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ علیمہ خان خود اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ ہیں،کبھی وہ گرفتار نہیں ہوئیں، ہر جگہ آزادانہ گھومتی ہیں۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے ایک سال میں پارٹی پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور ان کا رویہ پارٹی میں انتشار کا باعث بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا احساس نوجوان پروگرام :بغیر سود کے قرضوں کی اسکیم کیا ہے،طریقہ کار جانئے
دوسری جانب آج تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پارٹی معاملات، تنظیمی امور اور شیر افضل مروت کی تحریک انصاف میں ممکنہ واپسی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں بیشتر ارکان نے شیر افضل مروت کی پارٹی میں واپسی کی حمایت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مروت کو پارٹی میں واپس لیا جائے اور اس حوالے سے بانی چیئرمین کو سفارش بھی کی جائے۔
بیٹھک میں شریک بیرسٹر گوہر، شہریار آفریدی، اسد قیصر، ڈاکٹر نثار جٹ اور دیگر اہم ارکان نے مروت کی واپسی کی حمایت کی، تاہم بعض ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مروت کو پارٹی قیادت کے خلاف بیان بازی سے روکا جائے اور واپسی سے پہلے ماحول کو سازگار بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا دیہی علاقوں میں صفائی پروگرام شروع کرنے کا اعلان
اجلاس میں یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ کون اس بات کی ضمانت دے گا کہ مروت آئندہ پارٹی رہنماؤں کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گے۔
ڈاکٹر نثار جٹ کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کو سفارش کریں گے کہ شیر افضل مروت کو واپس لیا جائے جبکہ ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی نے کہا کہ پارٹی کے بیشتر ارکان شیر افضل مروت کی واپسی کے حامی ہیں۔
دوسری جانب شیر افضل مروت نے بھی مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ وہ ان تمام ارکان کے شکر گزار ہیں جو انہیں پارٹی میں واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہاکہ اگر میرے خلاف بلاجواز بیانات نہ دیے جائیں تو میری طرف سے کوئی مزاحمتی بیان نہیں آئے گا۔ میں سخت جملوں سے اجتناب کروں گا تاہم تنقید کی صورت میں خاموش رہنا مشکل ہوتا ہے۔





