خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں بچوں اور طلبہ میں آنکھوں کا خطرناک وائرس ایڈینو کنجیکٹیوائٹس تیزی سے پھیلنے لگا ہے، جس نے والدین اور طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد اسکول جانے والے بچوں کی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس نہایت متعدی ہے اور ہاتھ ملانے، آنکھوں کو رگڑنے یا ذاتی اشیاء جیسے تولیہ، بیڈ شیٹ، یا چشمہ کے مشترکہ استعمال سے تیزی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔
وائرس کی علامات میں:
آنکھوں کا سرخ ہونا
شدید سوجن
پانی بہنا
خارش اور تکلیف
روشنی سے حساسیت
شامل ہیں۔ ماہرین نے اسے ’’خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں:
بار بار صابن سے ہاتھ دھونا
آنکھوں کو ہاتھ نہ لگانا
سن گلاسز کا استعمال
متاثرہ فرد سے فاصلہ رکھنا
ذاتی اشیاء کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنا
نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ وائرس جان لیوا نہیں، مگر انتہائی تکلیف دہ اور جلدی پھیلنے والا ہے، اس لیے احتیاط ہی اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کو اسکول میں صاف صفائی کی تلقین کریں، اگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور بچوں کو آرام کا موقع دیں تاکہ دوسروں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔





