پشاور: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے تیسرے دور کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی ایم پی اے صوبیہ شاہد نے سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے تینوں ادوار میں صرف پرویز خٹک کی قیادت میں کچھ حد تک ترقیاتی کام ہوئے، جبکہ گزشتہ بارہ سالوں میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہو سکی۔
صوبیہ شاہد نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم کے دور میں ایسی حکومت سنبھالی جو ملک کے انتہائی مشکل دور میں تھی۔
انہوں نے سابق حکومت کے وزیر خزانہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو چودہ دن بھی چلانا ممکن نہیں تھا جب پی ڈی ایم نے اقتدار سنبھالا۔
مزید برآں صوبیہ شاہد نے پی ٹی آئی کے احتجاجی رویے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ قومی دن 14 اگست جیسے یومِ آزادی پر احتجاج مناسب نہیں کیونکہ یہ دن پاکستان کی آزادی اور یکجہتی کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن صرف پاکستان کا پرچم بلند ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی احتجاج۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو پی ٹی آئی کا احتجاج بھی ناکام رہا تھا اور 14 اگست کا احتجاج بھی اسی طرح ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : مارگلہ ٹریلز پر اچانک پابندی، پردے کے پیچھے چھپی اصل وجہ سامنے آ گئی
ایم پی اے صوبیہ شاہد نے پی ٹی آئی پر سنگین الزامات بھی عائد کیے کہ مریم نواز کو والد سے ملاقات کے دوران گرفتار کروایا گیا جبکہ مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں جیسے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور انہیں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے 2013 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے ابتدائی دور میں طالبان کو دفاتر دینے اور ان کی تنخواہوں کی فراہمی کے الزامات بھی اٹھائے۔
صوبیہ شاہد کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت دہشت گردوں کا نشانہ بنی، مگر پی ٹی آئی کو یہ کہا گیا کہ عمران خان طالبان کو قبول کرتے ہیں، جو ایک گٹھ جوڑ کے مترادف ہے۔





