باجوڑ جرگے کے تین نکات کیا تھے؟ اخونزادہ چٹان نے سب کچھ کھول دیا

پشاور : پیپلز پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان نے کہا کہ علی امین گنڈا پور ہر وقت عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر اندر اور باہر کی باتوں میں تضاد ہوتا ہے، انہوں نے یہ موقف کمرے کے اندر ایک بات، باہر دوسری بات کرتے ہیں کے الفاظ میں بیان کیا۔

پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا اخونزادہ چٹان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی بہتری کو امن کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا ،عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے،فاٹا کے انضمام کے ضمن میں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عمل در آمد ضروری ہے۔

انہوں نے اس پوری صورتِ حال پر غیر رسمی لیکن مؤثر ذرائع سے فورس کی پہچان کرائی، جسے انہوں نے باجوڑ جرگہ کا نام دیا۔

جرگہ میں عوامی مشاورت کی بنیاد پر تین اہم نکات پر اتفاق ہوا
1. متاثرہ لوگ پرامن طریقے سے علاقے سے نکل جائیں۔
2. عوامی آبادیوں میں رہنے والے بھی محفوظ راستے اختیار کرکے نقل مکانی کریں۔
3. لوگوں کے نقصان کے امکانات سے بچنے کے لیے انہیں محفوظ راستوں پر منتقل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : یومِ آزادی پر سیاست نہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کی بجائے پاکستان کا پرچم لہرانا چاہیے، صوبیہ شاہد

اخونزادہ چٹان کے مطابق پہلے دو نکات نافذ نہ کیے جانے کے باوجود، اب مقامی لوگ پرامن طریقے سے علاقے سے نکل چکے ہیں ،ایک ایسا اقدام جس سے مستقبل کے تصادم سے بچاؤ اور امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top