سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بیلاروس میں دستیاب ڈیڑھ لاکھ ملازمتوں میں سے کم از کم 10 ہزار کا کوٹہ پاکستانی شہریوں کو دیے جانے کا امکان ہے۔
چیئرمین کمیٹی ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت اجلاس میں وزارتِ سمندر پار پاکستانی کے حکام نے بتایا کہ بیلاروس کے ساتھ ملازمتوں کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس وقت دنیا بھر کی جیلوں میں 17 ہزار 236 پاکستانی قید ہیں جن میں سے 15 ہزار 238 صرف مشرق وسطیٰ کی مختلف ریاستوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
وزارت کے حکام کے مطابق، بیرونِ ملک قید پاکستانیوں میں سے زیادہ تر کو ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی قیام پر گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر سنگین الزامات میں منشیات اسمگلنگ اور جنسی ہراسانی جیسے مقدمات شامل ہیں۔
ڈائریکٹر اوورسیز پاکستانی دفتر خارجہ نے اجلاس کو بتایا کہ افغانستان میں 78 پاکستانی شہری قید ہیں، تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے تحت اب تک سری لنکا سے 56، سعودی عرب سے 27 اور برطانیہ سے 6 پاکستانی قیدی واپس لائے جا چکے ہیں، جبکہ چین میں قید 5 پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی متوقع ہے۔





