دماغی سکون اور توانائی بڑھانے والے مشروبات:ماہرین نے سب کچھ بتا دیا

برطانیہ میں حالیہ عرصے کے دوران ایسے مشروبات کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جنہیں “فنکشنل ڈرنکس” یا “فعالی مشروبات” کہا جاتا ہے۔

یہ مشروبات خود کو محض غذا یا تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت، دماغی سکون اور توانائی کے اضافی فوائد کا وعدہ کرنے والے مشروبات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 مہینوں میں ان مشروبات کی فروخت میں 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہر تین میں سے ایک گھرانہ اب انہیں باقاعدہ خرید رہا ہے۔

ان مشروبات میں شامل اجزاء میں سب سے نمایاں “لائنز مین مشروم” کا عرق ہے جو دماغی کارکردگی اور موڈ بہتر بنانے سے منسوب ہے، جبکہ چائے میں پایا جانے والا قدرتی مرکب “ایل تھیانین” ذہنی سکون میں مدد دینے کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ ’اشواگندھا‘ جیسی قدیم جڑی بوٹی کو بھی شامل کیا جاتا ہے جسے تناؤ کم کرنے اور جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ ضروری معدنیات مثلاً میگنیشیم بھی ان مشروبات میں شامل ہوتے ہیں تاکہ ذہنی اور جسمانی دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

تاہم طبی ماہرین اس رجحان پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان مشروبات میں موجود فعال اجزاء کی مقدار عام طور پر بہت کم ہوتی ہے اور ان کے اثرات پر کی جانے والی سائنسی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ مثال کے طور پر، ’لائنز مین مشروم‘ پر کی گئی بیشتر تحقیق لیبارٹری یا جانوروں پر کی گئی ہے، اور ان میں استعمال کی گئی مقدار ان مشروبات میں شامل مقدار سے کہیں زیادہ تھی۔

ماہرین نفسیات یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مشروبات کے استعمال سے حاصل ہونے والا ذہنی سکون اکثر “پلیسبو ایفیکٹ” یعنی ذہنی تاثر کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یعنی صارف مشروب پینے کے عمل کو ہی سکون بخش خیال کرتا ہے، چاہے اس کے اجزاء کا کوئی خاص اثر ہو یا نہ ہو۔

اشتہارات میں مبالغہ آمیزی کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔ حال ہی میں ایک معروف کمپنی “اوٹلی” کے اشتہار کو اس بنیاد پر ہٹایا گیا کہ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشروب “بے چینی اور تناؤ کم” کرتا ہے، جو برطانوی اشتہاری قوانین کے مطابق ایک طبی دعویٰ ہے اور قابل قبول نہیں

۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف ذائقے یا معمولی فائدے کے لیے یہ مشروب استعمال کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر مقصد ذہنی تناؤ کم کرنا یا کوئی طبی مسئلہ حل کرنا ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ کسی ماہر معالج، مشیر یا جسمانی ریلیکسیشن تکنیکس سے رجوع کرے۔ ایسے مشروبات ان افراد کے لیے کسی حد تک مفید ہو سکتے ہیں جو شدید جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں یا غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم عام صارفین کے لیے ان کے فوائد محدود اور غیر یقینی ہیں۔

Scroll to Top