باجوڑ،تحصیل سلارزئی کے اقوام کا جرگہ میں اہم اعلان

باجوڑ( محمد عباس) تحصیل سلارزئی میں سلارزی قوم اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو قبول نہیں کرتی اور نہ ہی اپنا وطن چھوڑے گی بلکہ اپنے علاقے کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

آج تحصیل سلارزوں میں لرامدک کے مشران اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں جرگے میں شرکت کی۔

جرگے نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی شرپسند کو اپنے علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، اور اگر وہ زبردستی آئے تو پھر پوری قوم کا سامنا کرے گا۔

جہاں کہیں بھی دہشت گرد آئے گا، پورا قوم متحد ہو کر اس کے خلاف کھڑا رہے گا۔قوم اپنے علاقے کے تحفظ کے لیے اقدامات خود اٹھائے گا۔ جرگے میں تمام شرکاء نے اپنے علاقے کیلئے تحفظ کا حلف بھی اٹھایا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے اضلاع باجوڑ اور خیبر میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والا قبائلی جرگہ ناکام ہوگیا جس کے بعد حکومت نے عسکری کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین نے فتنہ الخوارج سے علاقہ چھوڑنے سمیت تین مطالبات کیے تھے، تاہم شدت پسندوں نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے علاقہ خالی کرنے سے انکار کر دیا۔

حکام کے مطابق، ماموند کے دو علاقوں میں تقریباً 300 دہشتگرد موجود ہیں، جن میں سے 80 فیصد سے زائد کا تعلق افغانستان سے ہے۔تحصیل ماموند کی مجموعی آبادی تین لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے، جن میں سے 40 ہزار سے زائد افراد حفاظتی بنیادوں پر نقل مکانی کرچکے ہیں۔

علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر مزید لوگوں کے انخلاء کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ افراد کے لیے رہائش اور بنیادی سہولیات کا مکمل بندوبست کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خار میں 107 سرکاری عمارتوں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپورٹس کمپلیکس خار میں خیمہ بستی بھی قائم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ویزا اپلائی کرنے میں چھوٹی غلطیاں جو بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون جاری رکھیں تاکہ علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کیا جا سکے اور امن و امان بحال کیا جا سکے۔

Scroll to Top