پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سخت نوٹس، 7.5 ارب کی بے ضابطگیاں، 30 جون تک ریکوری کی ڈیڈلائن

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پرتگال میں جائیداد خریدنے والے افسران کا ریکارڈ طلب کر لیا

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پرتگال میں سرکاری افسران کی جانب سے جائیدادیں خریدنے کے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مکمل فہرست طلب کر لی ہے۔

کمیٹی نے حکم دیا ہے کہ ایسے تمام بیوروکریٹس کے نام سامنے لائے جائیں جنہوں نے بیرون ملک اثاثے بنائے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کی۔ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ پرتگال میں جائیداد رکھنے والے افسران کی تفصیلات جلد از جلد فراہم کریں۔

دوران اجلاس رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ نہ تو یوٹیلٹی اسٹورز بند کیے جائیں گے اور نہ ہی ملازمین کو نوکری سے نکالا جائے گا، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس پر پی اے سی نے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے متعلقہ وزارتوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں حج انتظامات پر بھی سوالات اٹھے۔ چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ ہر سال سعودی عرب بھیجے جانے والے حج معاونین کی اصل تعداد کتنی ہوتی ہے؟ سیکریٹری مذہبی امور نے جواب دیا کہ ہر سال لگ بھگ 1700 اہلکار سعودی عرب روانہ ہوتے ہیں، جن میں 20 فیصد حصہ پولیس کا ہوتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی حکومت کے قوانین کے مطابق ہر 100 حاجیوں کے لیے ایک معاون مقرر کیا جاتا ہے،جبکہ اسٹاف سروس ویزا پر جاتا ہے اور منیٰ و عرفات نہیں جا سکتا۔

مذید بتایا گیا کہ اگر معاونین خود حج ادا کریں گے تو وہ حاجیوں کی خدمت کیسے کریں گے۔

انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ برس گریڈ 18 کے تقریباً 350 افسران حج مشن کے تحت سعودی عرب گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی جاری

اس پر پی اے سی نے ہدایت جاری کی کہ تمام گریڈز کے سرکاری ملازمین کی تفصیلات مہیا کی جائیں جو حج پر بھیجے گئے۔

Scroll to Top