پشاور :گورنمنٹ کالج پشاور کی انتظامیہ میں مالی بے ضابطگیاں اور کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔
دو رکنی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کے مطابق کالج کے پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ نے سولر سسٹم، فرنیچر، فیس، کالج کے نئے گیٹ، پنکھے اور دیگر منصوبوں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں اور جعل سازی کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلبا فنڈز اور دوسری شفٹ کے مالی حسابات میں بے قاعدگیاں نمایاں ہیں، چیک اور واوچرز کی دستاویزات میں جعلی دستخط پائے گئے جبکہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر اور خریداری کمیٹیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
کالج کی خریداری کے تمام مراحل پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ کے کنٹرول میں تھے جنہوں نے متعلقہ کمیٹیوں کو معزول کر دیا۔ مالی دستاویزات میں قیمے جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اور کئی کام اور سامان فرضی طور پر ظاہر کیے گئے۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ فوری طور پر کالج کے تمام مالی معاملات کا آڈٹ اور مجرمانہ تفتیش کی جائے، اور فراڈ کے شواہد اکٹھے کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ میں پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ کے خلاف اعتماد کا خیانت، جعل سازی اور فراڈ کے مقدمات درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہریار آفریدی نے 14 اگست اور احتجاج کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا
ان تحقیقات کے دوران کالج کے مالی اور ادارتی مفادات کے تحفظ کے لیے پرنسپل کو عارضی طور پر عہدے سے ہٹانے کا بھی کہا گیا ہے تاکہ شواہد اور گواہوں کو نقصان نہ پہنچے اور مقدمے کی منصفانہ جانچ ممکن ہو سکے۔
اساتذہ اور دیگر ذمہ داران نے بیانات میں انکشاف کیا کہ پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ تمام کاموں کی مرکزی حیثیت رکھتے تھے جبکہ خود معاملات سے لاتعلق رہتے تھے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں سے درخواست کی گئی ہے کہ فوری طور پر ان سفارشات پر عمل درآمد کریں اور کالج کی دیگر مالی کارکردگیوں کا بھی جائزہ لے کر تعلیمی ادارے میں شفافیت اور اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔





