بلوچستان میں بی ایل اے کی تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گرد حملوں کے اہم منصوبہ ساز کو گرفتار کر لیا، گرفتار شخص نے استاد کا بھیس اپنایا ہوا تھا۔
11 اگست کو کوئٹہ سے گرفتار کیے گئے ایک خودکش بمبار کی نشاندہی پر سیکیورٹی اداروں نے یونیورسٹی کے لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی کو حراست میں لے لیا ہے۔
گرفتار شخص کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ سے روابط تھے، تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر عثمان نے 9 نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے حملے اور 14 اگست کو 32 خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے دہشت گرد رفیق بزنجو کو سہولت فراہم کی اور ایک زخمی بی ایل اے دہشت گرد کو اپنے گھر میں چھپا کر اس کا علاج بھی کرایا۔
منصوبے کے مطابق آزادی کے دن کو یومِ ماتم میں بدلنے کے لیے 32 خودکش حملہ آوروں اور 4 گاڑیوں میں نصب دھماکا خیز مواد کو استعمال کیا جانا تھا تاہم انٹیلی جنس اداروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو رونما ہونے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت مرسڈیز، پاکستان ڈمپر ہے، ٹکر کا انجام سب نے دیکھا، محسن نقوی
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ استاد کے روپ میں نوجوانوں کو خودکش جیکٹس فراہم کی جا رہی تھیں اور تعلیمی ادارے کو شدت پسندی کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔





