آئینی حقوق مانگنا غداری نہیں، ہم آئین کے تحت اپنا حق مانگتے ہیں، ایمل ولی خان

آئینی حقوق مانگنا غداری نہیں، ہم آئین کے تحت اپنا حق مانگتے ہیں، ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جا رہا؟

ایمل ولی خان نے آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ دہراتےہوئے کہا کہ وفاق کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ اپنا رویہ فوری طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ تمام قوموں کو ان کے حقوق دیے جائیں گے اور ہم اسی آئین کے تحت اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے جذبات قابو میں رکھ کر پاکستان کی بات کرنی ہے لیکن اگر آئینی حقوق مانگنا غداری ہے تو پھر اس ملک میں آئین کی بالادستی کیسے قائم ہوگی؟”، انہوں نے سوال اٹھایا۔

اے پی سی میں ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ تمام رجسٹرڈ جماعتوں نے اس اجلاس میں شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف مکالمے اور آئینی طریقے سے ممکن ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جہاں دیگر صوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، وہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نہ صرف وسائل ضائع کیے جا رہے ہیں بلکہ ان علاقوں کے عوام کو ان کا حق بھی نہیں دیا جا رہا۔

صدر اے این پی ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ جب ہم آئین پاکستان پر عملدرآمد کی بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہمارا مؤقف آئینی اور قانونی دائرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اے این پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس، دہشت گردی کے خلاف متفقہ اعلامیہ جاری

ایمل ولی خان نے کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں سننے والا کوئی نہیں، امید  ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل نکالیں گی۔

Scroll to Top