پاکستان میں رواں مون سون سیزن کے دوران شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک ملک بھر میں 645 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صرف خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سے 323 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس تباہی کے بعد ملک میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ واقعی قدرتی آفت ہے یا پھر انسانی غلطیوں کا نتیجہ۔ عوام کی بڑی تعداد اسے عذاب قرار دیتی ہے، لیکن ماہرین ماحولیات اسے انسانی بے احتیاطی اور ماحولیاتی بگاڑ کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کے لیے کی گئی سحر بلوچ کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی ماہرین نے بتایا ہے کہ درختوں کی بے تحاشہ کٹائی، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات اور قدرتی بہاؤ کے راستوں کو روکنے جیسے عوامل نے بارشوں کو تباہ کن شکل دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حالیہ شدید بارشوں کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی کی واضح جھلک دیکھی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی لاپرواہی نے نقصان کی شدت بڑھا دی ہے۔
بونیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ماحولیاتی رضاکار وقار عالم کا کہنا ہے کہ ان کے ضلع میں گزشتہ چند سالوں میں متعدد مقامات پر درختوں کی کٹائی کی گئی، خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر کے دوران۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں کبھی بارش معمولی ہوتی تھی، مگر اب کلاؤڈ برسٹ جیسے شدید موسمی واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ وقار کے مطابق حالیہ واقعے میں ان کے علاقے میں پہاڑ کا ایک بڑا حصہ گھروں پر آ گرا، اور اب تک کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، سوات یونیورسٹی کے پروفیسر محمد قاسم نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ قدرت کا انتقام نہیں بلکہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قدرتی راستوں کو بند نہ کیا ہوتا، زرعی زمینوں پر قبضے نہ کیے ہوتے، اور ماحول دوست منصوبہ بندی کی ہوتی، تو یہ تباہی اس پیمانے پر نہ آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوات جیسے علاقوں میں دریاؤں کے کنارے بے تحاشا تعمیرات نے قدرتی نظام کو بگاڑ دیا ہے، جبکہ بونیر جیسے علاقوں میں جہاں بڑے دریا نہیں ہیں، وہاں بھی تباہی اس بات کا ثبوت ہے کہ بے ہنگم تجاوزات اور درختوں کی کٹائی نے فطری توازن کو بگاڑ دیا ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان دنیا میں کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات یہاں سب سے شدید دیکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان میں معمول سے کہیں زیادہ بارشیں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سیلاب متاثرین کیلئے پاک فوج کا ریلیف آپریشن پانچویں روز بھی جاری
ماہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خطرناک علاقوں کی بروقت نشاندہی، قدرتی گزرگاہوں سے تجاوزات کا خاتمہ، اور مقامی سطح پر آگاہی و بچاؤ کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، آنے والے سالوں میں ایسی آفات صرف بڑھیں گی، کم نہیں ہوں گی۔





