توانائی بچت کے لیے بڑا اقدام، پرانے پنکھے تبدیل ہوں گے،دو ارب روپے جاری

اسلام آباد:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کے آغاز کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) کو 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (TSG) فراہم کی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں توانائی کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔

پروگرام کا مقصد پرانے اور زیادہ بجلی خرچ کرنے والے پنکھوں کو جدید، توانائی بچانے والے ڈی سی پنکھوں سے تبدیل کرنا ہے۔ قومی سطح پر اس مہم کے تحت 8 کروڑ 80 لاکھ روایتی پنکھے مرحلہ وار تبدیل کیے جائیں گے، جس سے اندازاً 6,000 سے 7,000 میگاواٹ تک بجلی کی بچت متوقع ہے — بالخصوص گرمیوں میں جب بجلی کا استعمال عروج پر ہوتا ہے۔

پروگرام میں شرکت کے لیے بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں: درخواست دہندہ کا بجلی صارف ہونا، شناختی کارڈ (CNIC) کا حامل ہونا، اور اس کے ذمے بجلی کا کوئی واجب الادا بل نہ ہونا۔ اگرچہ منصوبے میں آمدنی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، لیکن ترجیح کم آمدنی والے صارفین کو دی جا سکتی ہے، خاص طور پر وہ گھرانے جہاں پرانے پنکھے نصب ہیں اور بجلی کا استعمال زیادہ ہے۔

فی الوقت پروگرام کے لیے آن لائن پورٹل لانچ نہیں کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق رجسٹریشن کا عمل صارفین کے لیے سہل اور سادہ رکھا جائے گا۔ متوقع ہے کہ درخواستیں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں یا مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے وصول کی جائیں گی، جہاں CNIC اور بجلی کے ریفرنس نمبر کی بنیاد پر خودکار تصدیق کی جائے گی۔

درخواست منظور ہونے کے بعد، صارفین 1,500 روپے کے قریب قیمت والا ڈی سی پنکھا حاصل کر سکیں گے، جس کی ادائیگی 6 سے 18 ماہ کے دوران قسطوں کی صورت میں بجلی کے بل میں شامل کر کے کی جائے گی۔

حکومت نے اس پروگرام کے لیے اسلامی مالیاتی اصولوں پر مبنی “آن بل” فنانسنگ ماڈل متعارف کروایا ہے، جس کے لیے مختلف بینکوں سے شراکت داری کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ مالیاتی ادارے خطرہ کم ہونے کے باعث زیادہ صارفین کو سہولت دے سکیں۔

Scroll to Top