بونیر: ( پختون ڈیجیٹل ) خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد مقامی افراد شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
سیلاب میں اپنے پیاروں کو کھونے والے افراد نیند نہ آنے، بھوک نہ لگنے اور مسلسل صدمے کی کیفیت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلاب کے دل دہلا دینے والے مناظر بار بار ان کے ذہنوں میں تازہ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سکون سے سونے سے بھی قاصر ہیں۔
متاثرین کی ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور سے طبی ماہرین کی ایک ٹیم بونیر روانہ کی گئی ہے۔
ٹیم کے سربراہ کے مطابق یہ قدرتی آفت نہ صرف براہ راست متاثرہ افراد بلکہ پورے علاقے پر نفسیاتی طور پر اثرانداز ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کو کاؤنسلنگ کی طرف راغب کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس ذہنی صدمے سے باہر نکل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے مون سون کے حوالے سے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کو ہلا کر رکھ دینے والے سیلاب میں بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، درجنوں زخمی ہیں اور متعدد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
سیلابی ریلے مال مویشیوں کو بھی بہا کر لے گئے، جس سے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔





