محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پشاور، چارسدہ، ایبٹ آباد سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں “ڈینگی ایمرجنسی” نافذ کی گئی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں، جو عوام میں بلاوجہ خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے ایک ترجمان نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں ڈینگی ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور اس پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق 21 اگست 2025 تک کی مصدقہ رپورٹ میں صوبے بھر میں ڈینگی کے کل لیبارٹری تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 398 ہے، جن میں سے صرف 90 کیسز فعال ہیں، جبکہ 308 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 82 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے صرف تین اسپتالوں میں مجموعی طور پر 44 مریض زیر علاج ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 38 مریض ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چارسدہ میں داخل ہیں، جبکہ قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ اور کنگ عبداللہ اسپتال مانسہرہ میں تین تین مریض زیر علاج ہیں۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف محکمہ کی جانب سے جاری کردہ مصدقہ معلومات پر بھروسا کریں۔ ترجمان نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دینا، مچھر دانی یا جالیوں کا استعمال کرنا، اور بخار یا مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی مرکزِ صحت سے رجوع کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : تھائیرائیڈ کی بیماری : کن غذاوں سے پرہیز ضروری ہے؟
محکمہ صحت نے یقین دلایا ہے کہ عوام کی صحت و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام اضلاع میں مؤثر نگرانی، فوری علاج اور تشخیص کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ڈینگی پر مکمل قابو برقرار رکھا جا سکے۔





