تعلیم کو دنیا بھر میں ترقی کا ستون سمجھا جاتا ہے، اور تقریباً تمام ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں دو ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں ایک بھی یونیورسٹی نہیں؟
یہ حیرت انگیز حقیقت ویٹیکن سٹی اور لکسمبرگ سے متعلق ہے، جو اپنی الگ شناخت اور ترقی یافتہ حیثیت کے باوجود یونیورسٹیوں سے محروم ہیں۔
ویٹیکن سٹی دنیا کا سب سے چھوٹا ملک، بغیر یونیورسٹی کےویٹیکن سٹی ایک خودمختار ریاست ہے جو روم (اٹلی) کے اندر واقع ہے۔ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے جس کا رقبہ صرف 49 ہیکٹر ہے اور آبادی 1000 افراد سے بھی کم ہے۔اسی مختصر رقبے اور محدود آبادی کی وجہ سے یہاں یونیورسٹی قائم کرنا ممکن نہیں۔ ویٹیکن سے تعلق رکھنے والے طلبہ اکثر روم یا اٹلی کے دیگر شہروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
لکسمبرگ خوشحال یورپی ملک، مگر روایتی یونیورسٹی سے خالیدوسری جانب لکسمبرگ، جو یورپ کا ایک ترقی یافتہ اور اقتصادی طور پر مستحکم ملک ہے، وہاں بھی کوئی روایتی یونیورسٹی نہیں پائی جاتی۔لکسمبرگ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری ادارے اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس کام کرتے ہیں، تاہم جامعہ یا یونیورسٹی کے طرز کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے طلبہ اکثر فرانس، جرمنی یا بیلجیئم کا رخ کرتے ہیں۔
تعلیم کے مختلف ماڈلز کی ایک مثالیہ انوکھی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ ہر ملک، چاہے چھوٹا ہو یا ترقی یافتہ، اپنی آبادی، ضروریات، اور وسائل کے مطابق تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے۔ جہاں دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا ہے، وہیں کچھ ممالک مخصوص تعلیمی ماڈل اپنا کر کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔





